جانان
مانا کہ تجھے دیکھ نہ پائیں گے
دل کو مگر کیسے سمجھائیں گے
تو کہ پھر تغافل برتنے لگا
ہم پھر ہجر کو گلے لگائیں گے
شب بھر رہا تیری یادوں کا میلہ
داغ،دل ہم بھی ساتھ لائیں گے
سنا ہے موت سب کو آنی ہے
تجھ پر مر کر امر ہو جائیں گے
No comments:
Post a Comment